+ Reply to Thread
Results 1 to 4 of 4

Thread: چاند کا سفر ashfaq ahmed

  1. #1
    Moderator

    Points: 104,322, Level: 78
    Points: 104,322, Level: 78
    Level completed: 66%,
    Points required for next Level: 928
    Level completed: 66%, Points required for next Level: 928
    Overall activity: 25.7%
    Overall activity: 25.7%
    Achievements:
    10000 Experience Points25000 Experience PointsThree Friends
    Awards:
    Most PopularCommunity AwardDiscussion Ender
    is His PriNceSs..♥
     
    I am:
    Shy
     
    Sw33to is a splendid one to behold Sw33to is a splendid one to behold Sw33to is a splendid one to behold Sw33to is a splendid one to behold Sw33to is a splendid one to behold Sw33to is a splendid one to behold Sw33to is a splendid one to behold Sw33to's Avatar
    Join Date
    Feb 2006
    Location
    In His Heart ♥
    Posts
    32,326
    Gender
    Female
    Country
    Rep Power
    47
    Points
    104,322
    Level
    78
    Thanks
    1,990
    Thanked 1,343 Times in 889 Posts

    Default چاند کا سفر ashfaq ahmed




    چاند کا سفر


    گورنمنٹ کالج کی طرف مراجعت کے کئی راستے ہیں اور سارے راستے اپنے اپنے رخ پر چل کر اس منزل تک پہنچتے ہیں جو ہر " راوین " کے من کا مندر ہے ۔ اس منزل تک پہنچنے کے لئے سب سے مشہور، شیر شاہی اور جرنیلی سڑک تو برتری، تحفظ، منفعت اور پاور کی سڑک ہے جس پر جم غفیر رواں ہے ۔ لیکن کچھ راستے جذباتی وادیوں سے ہو کر بھی اس منزل طرف جاتے ہیں۔
    ہم دونوں کا گورنمنٹ کالج سے بندھن ایک بہت کمزور اور کچے سے دھا گے سے بندھا ہے ۔ ایک گم نام اور بے نام پگڈنڈی ہے جو خود رو جھاڑیوں اور گھنگیرلے رستوں سے الجھ الجھ کر بڑی مشکل سے من مندر تک پہنچتی ہے اور پھر وہاں سے تب تک اٹھنے کو جی نہیں چاہتا جب تک کہ کوئی وہاں سے اٹھا نہ دے ! نکال نہ دے !!
    بانو قدسیہ نے اور میں نے گورنمنٹ کالج کو کبھی بھی ایک درس گاہ نہیں سمجھا ۔ نہ کبھی ہم اس کی علمی روایت سے متاثر ہوئے اور نہ کبھی اس کے استادوں کے تجربئہ علمی سے مرعوب ہوئے ۔ اس کی قدامت، اس کی عمارت اور اس کی شخصی وجاہت بھی ہمیں مسحور نہیں کر سکی ____ اس سے کبھی کچھ لیا نہیں ، مانگا نہیں ، دیا نہیں ، دلوایا نہیں ۔ پھر بھی اس کے ساتھ ایک عجیب سا تعلق قائم ہے جسے ہم آج تک کوئی نام نہیں دے سکے ۔ دراصل ہم دونوں گورنمنٹ کالج کو درس گاہ نہیں مانتے _____ اس میں" سین " کے حرف کو وافر سمجھتے ہیں !
    جب ہمارا پہلا بیٹا پیدا ہوا تو ہم سمن آباد میں رہتے تھے اور اپنے مکان کا کرایہ بڑی مشکل سے ادا کرتے تھے ۔ میں ریڈیو میں ملازم تھا اور بانو پشاور کے لئے درسی کتابیں لکھ کر ساٹھ ، ستر روپے مہینہ گھر بیٹھے کما لیتی تھی ۔ بچے کے دودھ کا ڈبہ بیالیس روپے میں آتا تھا اور وہ ایک مہینے میں تین ڈبے ختم کر جاتا تھا ۔ اس زمانے میں مٹی کے تیل کا چودہ بتیوں والا چولہا آگیا تھا اور ہمارا ایندھن کا خرچ کم ہو گیا تھا ۔ بانو جب گو رنمنٹ کالج کی سٹوڈنٹ تھی تو اس کو روٹی پکانی نہیں آتی تھی ۔ میں جب گورنمنٹ کالج میں پڑھتا تھا تو گھر کا سودا لانے کے علم سے نا واقف تھا ۔ شادی کے بعد ہم دونوں نے یہ دونوں فن سیکھ لئے اور ہنسی خوشی رہنے لگے ۔ جب انیق ڈیڑھ سال کا ہوا تو جون کے مہینے میں سخت بیمار ہو گیا ۔ اسے اسہال اور قے کی شکایت ہوئی جو تین دنوں کے اندر اندر بڑھ کر خطرناک صورت اختیار کر گئی ۔ محلے کی بڑی بوڑھیوں کے کئی نسخے آزمائے لیکن کسی سے افاقہ نہ ہوا ۔ بچے کی حالت تشویش نا ک ہو گئی تو ہمیں کسی نے بتایا کہ اسے ڈاکٹر بروچہ کے پاس لے جاؤ ۔ بڑی گرمی میں سہ پہر کے چار بجے ہم " سالم تانگہ " کرا کر اسے ڈاکٹر صاحب کے کلینک پر میکلوڈ روڈ لے گئے ۔
    ڈاکٹر صاحب نے بچے کو الٹا پلٹا کر دیکھا ۔ اس کی اندر دھنسی ہوئی آنکھوں کے پپوٹے کھول کر معائنہ کیا اور پھر بانو سے مخاطب ہو کر بو لے " بابا تم لوگ کیسا پیرنٹ ہے جو اب اس کو ہمارے پاس لایا ہے ۔ اس کا میں کیا ٹریٹ منٹ کروں ؟" بانو زور زور سے رونے لگی اور جاہل فقیرنیوں کی طرح ہاتھ باندھ کر سسکیاں بھرنے لگی ۔ اس کے منہ سے کوئی بات نہ نکلتی تھی اور وہ خوف کے مارے روئے جا رہی تھی ___ ڈاکٹر صاحب نے کاؤنٹر پر جا کر پانچ چھ دواؤں کے امتزاج سے دودھیا رنگ کا ایملشن تیار کیا۔ اپنی میز کی دراز سے دس پڑیاں نکال کر دیں اور پھر ایملشن کی ایک خوراک میں ایک پڑیا گھول کر مجھے بچے کو مضبوطی سے پکڑ کر گود میں لٹانے کا حکم دیا ۔ بڑی بے دردی کے ساتھ انہوں نے انیق کے جبڑے میں انگلیاں کھبو کر اس کا منہ کھولا اور دوائی اس کے منہ میں انڈیل دی ۔ بچہ اپنی نحیف آواز میں بڑے کرب کے ساتھ رویا تو میں نے اسے کندھے سے لگا دیا ۔ گود میں لے کر تو میں اسے کھڑا تھا لیکن بانو قدسیہ خوف سے کانپتی ہوئی اسے تھپکے جا رہی تھی ۔ اتنے میں بچے نے منہ بھر کر قے کی ------ گرم اور بدبو دار تھوڑی سی میرے کندھے پر گری اور باقی ساری فرش پر ۔
    ڈاکٹر صاحب نے جھلا کر کہا " بابا تم کیسا پیرنٹ ہے، بچے کو سنبھالنا نہیں جانتا ۔ سارا فرش خراب کر دیا ۔ یہ کلینک ہے، کوئی تم لو گ کا گھر نہیں ۔ " ہم دونوں ہی ڈاکٹر صاحب کی ڈانٹ سے گھبرا گئے ۔ ہمیں ڈاکٹروں کا اور ہسپتالوں کا کوئی تجر بہ نہیں تھا ۔ پھر ہماری مالی حالت بھی معمولی سی تھی ۔ شکل و صورت سے بھی ہم سہم ہی سہم تھے اور بچہ کافی بیمار تھا ۔ بانو قدسیہ نے اپنا آدھا دوپٹہ تو سر پر محفوظرکھا اور با قی کے آدھے دو پٹے سے ڈاکٹر صاحب کا فرش صاف کر نے لگی ۔
    اس نے دونوں گھٹنے زمین پر ٹیکے ہو ئے تھے اور بائیں ہاتھ کو آگے ب ھا کر جھکے ہوئے بدن کا سارا بوجھ اس پر تول رکھا تھا وہ روئے بھی جا رہی تھی ، شرمندگی سے سر بھی جھکائے جا رہی تھی اورسسکیوں سے اس کا سارا بدن کانپ رہا تھا ۔ اس نے نارنجی اور کاسنی پھولوں والی قمیض پہنی ہوئی تھی ۔ سبز رنگ کی شلوار تھی اور پاؤں میں ہوائی سلیپر تھے جس میں سے ایک فرش پر ٹاکی مارتے ہوئے اتر گیا تھا ۔
    ڈاکٹر صاحب کا فرش پرانی اینٹوں کا تھا جن کا پلستر جگہ جگہ سے اکھڑ چکا تھا ۔ کچھ اینٹیں نیچے کو ہو گئی تھیں، کچھ سیم کی وجہ سے اوپر کو ابھر آئی تھیں ۔ اس اونچ نیچ کے درمیان دوپٹے سے جگہ صاف کرنا مشکل کام تھا لیکن بانو نے اپنے روز مرہ تجربے کے زور پر ساری جگہ اچھی طرح سے صاف کر دی ۔ ڈاکٹر صاحب نے چور آنکھ سے اپنے فرش کو اس کی اصل حالت میں دیکھ کر کہا " بابا تم کیسا لڑکی لوگ ہے ، سارا دوپٹہ خراب کر لیا ۔ اب اس کو باہر جا کر دھوؤ ۔ا چھی طرح سے صاف کرو، اس میں جراثیم چلا گیا ہے ۔ بچے کے پاس نہیں لانا یہ کپڑا ۔"
    میں نے کہا " ڈاکٹر صاحب باہر نلکا ہے ؟"
    کہنے لگے " کیوں نہیں ہے ۔ یہ ساتھ باجو میں گھوڑوں کے پانی پینے کا حوض ہے نئیں ، اس میں پانی ہی پانی ہے۔ جا کر دھوؤ ۔" میں بچے کو کندھے سے لگا کر کھڑا رہا ۔ بانو نے آدھا دوپٹہ کھیل میں ڈال کر کھنگال لیا ۔
    ایسے وقت میں اور اس قدر شدید گرمی میں سڑک کنارے پیدل چلنا تو شاید اس قدر مشکل نہیں تھا لیکن ایک بیمار بچے کو کندھے سے لگا کر کلینک سے ذلیل و خوار ہو کر اور زمین سے بوٹ کے پرانے ڈبے کا گتا اٹھا کر اس سے مریض بچے کے چہرے کو چھاؤں کر کے چلنے میں ہم دونوں ایک دوسرے سے کچے پڑے ہوئے تھے اور شرمندگی کی وجہ سے ہمارے سر اوپر نہیں اٹھتے تھے ۔
    سڑک پر کوئی سواری نہیں تھی اور ہمیں بس پکڑنے کے لئے ابھی بہت دور تک چلنا تھا ۔ بچے کا بخار گرمی کی وجہ سے بڑھ رہا تھا اور بانو بار بار اس کے ماتھے اور لٹکتی ہوئی بے جان ٹانگوں کو چھو رہی تھی کہ بخار ہو رہا ہے یا بڑھ رہا ہے ۔
    اس دھوپ اور گرمی میں ہم اسی طرح سے چلتے رہے، تھکے تھکے، خوف زدہ، مایوس، بے مراد اور اکیلے ۔ بیمار بچے نے کئی مرتبہ آنکھیں کھولنے کی کوشش کی لیکن گرمی کی شدت اور روشنی کی چلکور نے اس کے پپوٹے کھلنے نہ دئیے ۔ ہم چلتے چلتے، سو چتے سو چتے، چپ چپاتے جی پی او کے پاس پہنچ گئے ۔ یہاں تار گھر کے پاس کئی تانگے کھڑے تھے۔ درخت کی چھاؤں تلے بیمار بچے نے آنکھیں کھول کر ایک سفید گھوڑے کو بڑی دلچسپی سے دیکھا اور اپنا ڈولتا ہوا سر ساکن کر لیا ۔ میں نے تا نگے میں بیٹھتے ہوئے کہا " گورنمنٹ کالج " اور بانو حیرانی سے میرا منہ تکنے لگی ۔
    کالج چھٹیوں کی وجہ سے بند تھا ۔ پرندے شاخوں میں چھپے ہو ئے تھے ۔ اونچی بلڈنگ کے سائے دور دور تک پھیل کر درختوں کے سائے سے مل گئے تھے ۔ سارے میں ایک خوشگوار خاموشی کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی ۔ ہم اپنے کلاس روم کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئے ۔ انیق بانو کی گود میں لیٹا ہوا ایک اونچے درخت کی شاخوں کو دیکھ رہا تھا ۔ میں نے جھک کر اس کی آنکھوں کو قریب سے دیکھنا چاہا تو مجھے بانو کے دوپٹے سے کھٹی کھٹی بو سی آئی ۔ میں نے بچے کے چھوٹے سے ماتھے پر اپنا بڑا سا تھکا ماندہ چہرہ رکھا تو مجھے ایک بیمار سی ٹھنڈک کا احساس ہوا ۔ بچے نے مسکرا کر اپنی ماں کی طرف دیکھا تو ماں کی جنت گم گشتہ لوٹ کر اس کی جھولی میں آ گئی ۔ بانو نے اس کے پاؤں کو ، ماتھے کو اور گلے کو چھو کر خوشی سے میری طرف دیکھا اور کہا " بالکل خواجہ منظور کی طرح مسکرایا ہے " خواجہ صاحب اپنی ساری زندگی میں صرف ایک بار مسکرائے ہوں گے لیکن بانو کے ذہن میں ان کی مسکراہٹ ہمیشہ کے لئے سٹل ہو کر ایک فریم میں جڑی جا چکی تھی ۔ پھر ہمارے ذہنوں میں اپنے ایام طالب علمی کا ایکشن ری پلے شروع ہو گیا اور طوطے اپنی چونچوں میں ڈالیاں پکڑ کر ہاتھ چھوڑ کر کرتب دکھلانے لگے ۔
    بیمار بچہ اپنی ماں کی گود سے پھسل کر پہلے ایک سیڑھی پر کھڑا ہوا ۔پھر ہاتھ پکڑ کر دوسری پر اترا اور پھر خود ڈگمگاتے قدموں سے روش پر چلا گیا ۔ وہ کوئی ڈیڑھ گز تک ایک طرف اور کوئی دو گز کے قریب دوسری جانب چلا اور پھر تھک کر زمین پر بیٹھ گیا ۔
    ابھی ہمیں سیڑھیوں پر بیٹھے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کہ نیلی پگڑی باندھے اور ہاتھ میں چابیوں کا مو ٹا سا گچھا اٹھا ئے ایک شخص ہمارے طرف آیا اور قریب آ کر پوچھنے لگا " کون لوگ ہو تم "
    میں نے کہا "ہم لوگ ہیں ۔"
    اس نے کہا " یہاں آنے کا اور بیٹھنے کا حکم نہیں ہے ۔"
    میں نے کہا " کس کا حکم نہیں ؟"
    " پرنسپل صاحب کا " اس نے درشت لہجے میں کہا اور ہمیں ہاتھ کے اشارے سے اٹھانے لگا ۔ میں کہنے والا تھا کہ بانو نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے منع کر دیا ۔ پھر اس نے آگے بڑھ کر زمین پر بیٹھے ہو ئے اپنے بچے کو اٹھایا اور آہستگی سے چلنے لگی ۔ میں بھی خاموشی سے اس کے ساتھ ہو لیا اور ہم تینوں آہستہ آہستہ پھاٹک کی طرف بڑھنے لگے ۔ ہم آگے کو جا رہے تھے اور گورنمنٹ کالج پیچھے کو ہٹا جا رہا تھا ۔ ہم نے پیچھے مڑ کر تو نہیں دیکھا لیکن ہمیں پتہ چل رہا تھا کہ ہمارے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے ۔ کئی بے ہو دہ، نکمے، بد ہیت اور بے کار لوگ در گاہوں سے اٹھا دئیے جاتے ہیں اور ان کے بعد فرش دھلا دئیے جا تے ہیں ------ لیکن ان کے دلوں کے فرش پر درگاہوں کی مورتیں ویسے ہی قائم رہتی ہیں ۔
    اصل میں گورنمنٹ کالج تک پہنچنے کے کئی راستے ہیں ۔ اس کی طرف رخ نہ بھی ہو تو بھی یاتری اسی کی طرف کا سفر ہی کر رہے ہو تے ہیں ۔ کہتے ہیں جب Space Shuttle زمین سے چاند کی طرف چھوڑا جاتا ہے تو اس کا رخ چاند کی طرف نہیں ہوتا ، پھر بھی اس کا سفر چاند ہی کا ہوتا ہے اور اس کی منزل چاند ہی ہوتی ہے ۔



    You are my description of love
    You are my description of friend
    You are my description of everything
    You are my description of beginning to end.


  2. The Following 2 Users Say Thank You to Sw33to For This Useful Post:

    poetry_lover (26-08-2010), ~SmilingDoll~ (04-09-2010)

  3. # ADS
    Circuit advertisement
    Join Date
    Always
    Location
    Advertising world
    Posts
    Many


     

  4. #2
    Moderator

    Points: 23,942, Level: 37
    Points: 23,942, Level: 37
    Level completed: 66%,
    Points required for next Level: 408
    Level completed: 66%, Points required for next Level: 408
    Overall activity: 18.4%
    Overall activity: 18.4%
    Achievements:
    500 Experience Points1000 Experience Points7 days registered
    is Janaa hai badal se Durrrrrrrrrrrr !
     
    I am:
    Awesome
     
    poetry_lover is a name known to all poetry_lover is a name known to all poetry_lover is a name known to all poetry_lover is a name known to all poetry_lover is a name known to all poetry_lover is a name known to all poetry_lover's Avatar
    Join Date
    May 2010
    Location
    Idhar se Udhar , Udhar is Idhar
    Posts
    7,758
    Gender
    Female
    Country
    Rep Power
    15
    Points
    23,942
    Level
    37
    Thanks
    1,027
    Thanked 443 Times in 279 Posts

    Default Re: چاند کا سفر ashfaq ahmed

    1. thanx 4 sharing
    Khuda kO dikh raha hO ga na dill tujh se juda hOga
    teri taqdeer mai mujh kO wOh ub tu likh raha hO ga
    tera hi bas hOna chahOn tare dard mai rOna chahOn
    tare diLL k in XakhmOn pay marham mai hOna chahOn

  5. #3
    Moderator

    Points: 118,299, Level: 83
    Points: 118,299, Level: 83
    Level completed: 55%,
    Points required for next Level: 1,351
    Level completed: 55%, Points required for next Level: 1,351
    Overall activity: 0%
    Overall activity: 0%
    Achievements:
    10000 Experience Points25000 Experience PointsThree Friends
    Awards:
    Master TaggerFrequent PosterPosting Award
    is Islam is my way of Life
     
    I am:
    Crazy
     
    Ainny is a name known to all Ainny is a name known to all Ainny is a name known to all Ainny is a name known to all Ainny is a name known to all Ainny is a name known to all Ainny's Avatar
    Join Date
    Oct 2009
    Location
    Dubai
    Posts
    35,126
    Gender
    Female
    Country
    Rep Power
    43
    Points
    118,299
    Level
    83
    Thanks
    470
    Thanked 1,973 Times in 1,167 Posts

    Default Re: چاند کا سفر ashfaq ahmed

    Thanks 4 Sharing


  6. #4
    Administrator

    Points: 263,338, Level: 100
    Points: 263,338, Level: 100
    Level completed: 0%,
    Points required for next Level: 0
    Level completed: 0%, Points required for next Level: 0
    Overall activity: 62.5%
    Overall activity: 62.5%
    Achievements:
    25000 Experience Points50000 Experience PointsThree Friends
    This user has no status.
     
    I am:
    Cool
     
    ~SmilingDoll~ will become famous soon enough ~SmilingDoll~'s Avatar
    Join Date
    Jun 2006
    Location
    ~Apny ghar mein~
    Posts
    65,052
    Gender
    Female
    Country
    Rep Power
    10
    Points
    263,338
    Level
    100
    Thanks
    3,575
    Thanked 3,903 Times in 2,631 Posts

    Default Re: چاند کا سفر ashfaq ahmed


    Bikney Waly Aur Hein Ja Kar Khareed Lo,
    Hum Log Qeemat Se Nhn Qismat Se Mila Karty Hein.





+ Reply to Thread

Thread Information

Users Browsing this Thread

There are currently 1 users browsing this thread. (0 members and 1 guests)

     

Similar Threads

  1. Replies: 2
    Last Post: 10-08-2010, 03:38 PM
  2. Replies: 2
    Last Post: 08-06-2010, 01:44 PM
  3. اداکار ڈینس ہوپر انتقال کر گئے
    By ~SmilingDoll~ in forum Music, Movies, and Dramas
    Replies: 0
    Last Post: 02-06-2010, 03:55 PM
  4. کراچی فائرنگ میں سترہ افراہ ہلاک
    By ~SmilingDoll~ in forum News & Views
    Replies: 0
    Last Post: 20-05-2010, 12:31 PM
  5. Replies: 6
    Last Post: 20-04-2010, 04:59 PM

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts

Hot videos      Funny Videos      Computer Prices      Flash Games      Song Lyrics      Urdu Poetry

eXTReMe Tracker

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43