عورت کو کھبی ایک پھیلی کھا گیا تو کھبی شاعروں نے اسے کائینات کا رنگ کھا ،عورت اس دنیا کے لئے واقعی ایک پھیلی ھی بنی رھی اس کو شاعروں نے کائنا ت کا رنگ تو کھا مگر وہ ھر رنگ ھر روپ میں کتنی عظیم ھے اس بات کو دنیا نے کھبی سمجا ھی نھیں ۔عورت اگر ماں کے روپ میں ھو تو اپنی اولاد کے لئے اپنا سکھ چین لٹا دیتی ھے اپنی اولادکی ذرا سی تکلیف پر ساری ساری رات جاگ کر گزاردیتی ھے اسکی زندگی کا محور و مرکز اپنے بچے کی خوشی ھوتی ھے ماں کے روپ میں عورت ممتا کا ساگر ھے اس کے دل میں کھبی نہ ختم ھونے والا محبت کا خزانہ ھے ۔۔۔ا
اکر عورت بہن کے روپ میں کسی گھر میں جنم لیتی ھے تو اس کے لبوں پر ھر لمحہ اپنے بھائی کی سلامتی کے لئے دعائیں ھوتیں ھیں وہ ھر لمحہ اس کی خوشی اور سکھ کا خیا ل رکھتی ھے ۔ جب عورت بیٹی کے روپ میں کسی گھر میں جنم لیتی ھے تو قدرتی طور پر اس کے دل میں اپنے باپ کے لئے پیار امنڈ آ تا ھے اور وہ بچپن سے ھی اپنے باپ کی خوشیوں کا خیال رکھتی ھے اور جب بڑی ھوتی ھے تو ھمیشہ اپنے بابل کے گھر کی عزت و آبرو کا خیال رکھتی ھے ۔۔۔ جب عورت بیوی بن کر کسی نئے گھر جاتی ھے تو اپنی محبت سے اجنبی گھر انے کو بھی اپنا گھر بنا لیتی ھے ھر دکھ سکھ میں اپنے شوھر کا ساتھ دیتی ھے اور کوئی شکایت لبوں پر نھیں لاتی ،عورت بیوی کے روپ میں ایک مخلص دوست اور وفا کی دیوی ھے سوچنے کی بات یہ ھے کہ عورت نے ھر روپ میں ھر رشتے میں پیار دیا مگر اس کے بدلے کچھ بھی نھیں مانگا اتنی قربانیوں کے باوجود بھی دنیا کی نظر میں عورت ایک پھیلی ھے۔۔۔ جب عورت کو خدا نے بنایا تو فرشتوں کو حکم دیا ،چاند کی ٹھنڈک ، شبنم کے آنسو ، بلبل کے گیت ، چکور کا انتیظار ، گلاب کا رنگ و تازگی ، کوئل کی پکار ،سمندر کی گھرائی ، حسن کی چمک ، اور صبحہ کا نور حاضر کیا جائے ۔۔۔تو فرشتوں نے خدا سے عرض کیا ۔۔یے خدا تو نے اپنی طرف سے اس میں کیا شامل کیا ھے ۔۔خدا نے کہا محبت،،،،شاید یہ ھی وجہ ھے کہ محبت دینا عورت کی فطرت میں شامل ھے اور بدلے میں کچھ نہ مانگنا اس کی آلی ظرفی ھے کتنی حیرت کی بات ھے کہ اتنی قربانیوں کے با وجود بھی کوئی عورت کی ھستی کو سمجھ نہ پایا اور اسے عورت ایک پہیلی کا نام دے دیا۔۔۔ تحریر۔۔۔۔۔ا(ناھید عمر بلوچ
Bookmarks