تیرے گناہگار بندے کہاں جائیں ؟؟...
یاد آئے ہیں ُاف ! گناہ کیا کیا؟
ہاتھ ُاٹھائے ہیں جب دعا کے لئے ...
اے ایمان کی حلوت !ایمان کا نور' اور ایمان جیسی عظیم نعمت عطا کرنے والے الله !
اے چرند پرند' کیڑے مکوڑوں' انسان کو زمین اور سمندر کی گہرائی میں رہنے والی ہر مخلوق کو رزق ' اور ان کی ضروریات پوری کرنے والے پاک پروردگار !
اے کافروں' مشرکوں' فاجروں 'فاسقوں 'اور تجھے لعن طعن تک کرنے والوں کے بھی روزی رساں !
اے مظلومو ں ' بے سہاروں 'کی غیبی مدد' بیماروں کو شفا' خطاکاروں کو عطا 'اور فاقہ زدوں کو رزق دینے والے رحیم و کریم!
اے گنہگاروں کی توبہ مانگنے والوں کی دعا اور رونے والوں کی آہ و بکا سننے والے سمیع و بصیر !
اے دلوں کے زخم ' درد' دُکھ' جاننے والے الله! اور ہر ظاہر و باطن کا علم رکھنے والے علیم!
میں اپنے زخم کیسے دکھاؤں' میں اپنا درد کیسے سناؤں 'میں اپنے آنسو کس کر سامنے بہاؤں'
یا ارحم ا لرحمین!
میرے حال اور گناہوں ' لغزشوں' خطاؤں پر رحم فرما' کہ تیرے سوا کوئی رحم کرنے والا نہیں'
میرے نالوں'اور میری فریادوں' کو تیرے سوا سننے والا کوئی نہیں'
میری مشکلات' میری آزما ئیشوں'کے مشکل ترین لمحات کو تیرے سوا کوئی بھی ختم نہیں کر سکتا'
میرے جذبات ' احسا سا ت تیرے سوا کوئی جان و سمجھ نہیں سکتا'
مجھ پر کرم فرما اپنی رحمتوں کے درو ازے کھول دے'
میری ذلت کو عزت میں' ظعف کو قوت میں بدل دے'
مجھے ہوس پرستی کی بدروح سے آزاد کر دے'
میرے لئے اپنی مخلوق کے دل نرم فرما دے'
ایمان کی جو مخفی پونجی گوشہ ء دل میں چھپی بیٹھی ہے' اسے ٹمٹماتے چراغ کیطرح روشن کر دے 'اور اس چراغ کو مادیت کی تند و تیز آندھیوں سے محفوظ رکھنے کی توفیق عطا فرما دے'
یا رب مجھے اپنے گناہوں کا اعتراف ہے' میں اقراری مجرم ہوں' توبہ کرتا ہوں' اک تیرے ہی در کے سوا میں کہاں جاؤں 'کہ میرا رب صرف اک تو ہے' اور تیرے سوا کوئی نہیں'
میرے مالک! میں ا یمان کے بغیر دنیا سے نہیں جانا چاہتا' میرا خاتمہ ایمان پر کر دے'
اے دلوں کو عزم ثبات عطا کرنے والے مجھے عزم و ثبات عطا فرما دے'
میرے وجود کو ہدایت کی شمع سے روشن کر دے اور دل و نظر' زبان کو عیوب سے پاک ' آ مین
( اک بارصدق دل سے یہ دعا ضرور پڑھیئے گا' بڑی مہربانی ہو گی جی ' )
اسلام کسی عمل' کام'شخص' کو اس بنیاد پر نہیں جانچتا' کہ دنیا میں وہ کس منصب' عھدہ پر فائز ہے' یا ریاست کی معیشت میں کتنا حصہ ڈال رہا ہے' اسلام کسی شخص خاتون'مرد کو جانچنے کا پیمانہ یہ بتاتا ہے کہ ان کے ا عمال الله تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہیں یا نہیں' اور ان کے تقویٰ کا معیار کیا ہے .....
اصل چیز ایمان اور عمل ہے' جب دل میں ایمان کا نور پیدا ہو جائے گا'تو عمل کی توفیق بھی ضرور مل جائے گی ' اور پھر کچھ نہ ہونے کے باوجود بہت کچھ حاصل ہو جائے گا'
خوش خوش رہیئے ! آ مین


LinkBack URL
About LinkBacks


















Reply With Quote






Bookmarks