دنیا بھر میںسنہ دو ہزار نو کے دوران اکہتر صحافی قتل ہوئے جن میں آٹھ کا تعلق پاکستان سے ہے، جبکہ پاکستان اور افغانستان صحافیوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات والے ممالک میں سر فہرست بتائے گئے ہیں۔
یہ بات صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنسلسٹس‘ یا سی پی جے نے دو ہزار نو کے دوران پریس اور صحافیوں پر حملوں کے بارے میں سالانہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہی ہے۔
سی پی جے کی طرف سے دنیا بھر میں پریس اور صحافیوں پر حملوں کے متعلق جاری کئي گئي اس سالانہ رپورٹ کا پیش لفظ ممتاز امریکی صحافی اور جریدے نیوزویک کے ایڈیٹر فرید زکریا نے لکھا ہے۔
سی پی جے نے اپنے سروے میں بھارت سمیت بیس ممالک کو صحافیوں کے لیے خطرناک قرار دیا ہے جن میں صحافیوں کو دوران فرائض خطرات اور تشدد کے حوالے سے صومالیہ، افغانستان اور پاکستان سر فہرست بتائے گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گيا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ سال آٹھ صحافی قتل ہوئے جن میں ااکثر کا تعلق شورش زدہ صوبہ سرحد سے تھا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں قتل ہونے والے آٹھ میں سے چار صحافیوں کے قتل کی تصدیق ہو سکی ہے جن میں جیو ٹی وی اور دی نیوز کے نمائندے موسی خان خیل، شمشاد ٹی وی جمرود کے جان اللہ ہاشم زادہ، ڈیرہ اسماعیل خان کے صحافی طاہر اعوان، اور ایکسپریس ٹی وی کے محمد عمران شامل ہیں۔
جبکہ چار صحافیوں کے قتل کے محرکات کا اب تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ ان چار صحافیوں میں مردان میں آج ٹی وی کے نمائندے صدیق باچا خان، خضدار میں روز نامہ ’آزادی‘ اور بلوچستان ایکسپریس کے نمائندے وصی احمد قریشی اور راولپنڈی میں وقت ٹی وی اور نیشن کے نمائندے راجہ اسد حمید،شامل ہیں۔
سی پی جے نے اپنی اس رپورٹ میں دنیا بھر میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی فہرست میں ہلاک ہونے والے تین میڈیا کارکنوں میں پاکستان کے میاں اقبال شاہ کا نام بھی شامل کیا ہے جو پریس کلب پشاور پر بم حملے میں ہلاک ہوگۓ تھے۔
سی پی جے نے اپنی اس رپورٹ کے پاکستان والے حصے میں صحافیوں کو اپنے فرائض کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور تشدد کی صورتحال کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان میں مقامی نامہ نگاروں کو وسیع طور پر خطرات سے گزرنا پڑتا ہے جیسے گزشہ سال کے وسط میں صوبہ سرحد میں لڑائي میں شدت آنے کی وجہ سے صحافیوں کو اپنے علاقوں سے بے دخل ہونا پڑا تھ۔ سی پی جے کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گيا ہے کہ صرف صوبہ سرحد میں گزشتہ سال چار صحافی قتل ہوئے جن میں تین مقامی اور ایک افغان صحافی شامل تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس سوات اور اس کے بعد فاٹا کے علاقوں میں پاکستانی فوج کے آپریشن میں شدت آنے سے مقامی صحافی فوج اور عسکریت پسند دونوں کی طرف سے دباؤ کی وجہ سے آزادانہ رپورٹنگ کرنے سے قاصر رہے جبکہ مقامی صحافیوں کو در پیش خطرات کی وجہ سے جنگ کے دوران زیادہ تر رپورٹنگ غیر مقامی صحافیوں نے کی جنہیں فوج اپنے ساتھ لے گئی تھی۔
ایک ایسے صحافی نے سی پی جے کو بتایا کہ فوج لاشوں کی تصاویر اور نقصانات کی تفصیلات شائع کرنے پر ناراض ہوتی تھی۔رپورٹ میں شدت پسندوں کے ہاتھوں صحافی رحمان بنیری کے گھر تباہ کیے جانے اور ان کے خلاف دھمکیوں کا بھی ذکر کیا گيا ہے۔
سی پی جے کی سروے کے مطابق سال انیس سو بانوے سے لے کر اب تک پاکستان میں بائیس صحافی قتل ہوئے ہیں۔ ایسے قتل ہونے والے صحافیوں میں صوبہ سرحد سے حیات اللہ، امیر نواب اور اللہ نور بھی شامل ہیں
And I believe that good journalism, good television, can make our world a better place.
hmm azadi e sahafat ko bhi khatra jo such dikhana chata hai behis log unhain bhi nahin chortay wah ri duniya well well thanx 4 sharing Bol l lab azad hai tara bol zaban ab tak teri hai bl k such zinda hai ub tak bol jo kuch kahna hai kahlay
Yeh ajab hai mohabbat k zamana janta hai...
Nah main us ki manta hon na woh meri manta hai
Koi us se ja k pochay usay kya milla bichar k ??
Ub main bhi khak chanta hon aur woh bhi khak chanta hai
Bookmarks