آصف فاروقی بی بی سی اردو، اسلام آباد امریکہ پاکستانی عوام کے ساتھ اپنی دوستی کے عہد کی تجدید چاہتا ہے پاکستان کے دورے پر آئے امریکی نمائندہ خاص رچرڈ ہالبروک نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے مذاکرات کے ساتھ پاکستانی حکام سے ملاقاتوں کا آغاز کر دیا ہے۔
خصوصی ایلچی کی حیثیت سے سڑسٹھ سالہ سابق سفارت کار کا یہ پہلا دورۂ پاکستان ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے لئے خصوصی ایلچی نے اپنے وفد کے ہمراہ دفتر خارجہ میں منگل کی صبح وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر حکام سے ملاقات کی۔
سوموار کی شب اسلام آباد پہنچنے کے بعد اپنے جارحانہ سفارتی داؤ پیچ کے لئے دنیا بھر میں مشہور امریکی خصوصی ایلچی نے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں قیام کے دوران سیاسی اور فوجی قیادت کے علاوہ سول سوسائٹی کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے افغانستان اور پاکستان کے لئے مقرر کردہ خصوصی ایلچی کی خطے میں موجودگی کو خاصی اہمیت دی جارہی ہے۔ خود رچرڈ ہالبروک کا بھی کہنا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے بارے میں امریکی پالیسی میں تبدیلی کے لئے تجاویز تیار کر رہے ہیں۔
اسلام آباد میں مزید تین روز قیام کے دوران وہ صدر اور وزیراعظم کے علاوہ، بری فوج کے سربراہ اور دیگر سیاسی اور فوجی راہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
رچرڈ ہالبروک ان ملاقاتوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے مختلف پہلوؤں کے علاوہ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کے بارے میں بھی سرکاری حکام سے بات کریں گے جنہیں ایٹمی مواد کے غیر قانونی پھیلاؤ کے الزامات کے تحت پانچ برس نظر بند رکھنے کے بعد عدالت کے حکم پر گزشتہ ہفتے رہا کیا گیا ہے۔
اپنی آمد کے فوراً بعد ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس ملک کے بارے میں اصل زمینی حقائق جاننے اور سننے کے لیے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میں پاکستان کا دورہ کرنے پر خوش ہوں اور اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئےمتعدد پاکستانی رہنماؤں سے مختلف موضوعات پر تبادلۂ خیال کروں گا۔‘
ہالبروک کے مطابق’میں پاکستانی رہنماؤں سے مذاکرات کا منتظر ہوں جن کی بنیاد پر واپس جاکر میں امریکی صدر اور وزیر خارجہ کو اپنی رپورٹ پیش کروں گا۔‘ صدر پاکستان آصف علی زرداری نے رچرڈ ہالبروک کی تقرری کے فوراً بعد ایک امریکی اخبار میں لکھے گئے ایک مضمون میں انکا خیرمقدم کرتے ہوئے ان سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات خصوصاً مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کردار ادار کرنے پر زور دیا تھا۔
______________________________________________
آرمی شوگر ملز میں فائرنگ پر احتجاجآ
علی حسن
بی بی سی اردو ، حیدرآباد سپریم کورٹ نے یونین کو بحال کیا لیکن انتظامیہ فیصلہ ماننے کے لیے تیار نہیں: یونین رہنما صوبہ سندھ کے ضلع بدین میں آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر انتظام چلنے والی شوگرملز میں محنت کشوں رہنماؤں پر مبینہ فائرنگ کے خلاف شہر میں کاروبار بند رہا اور احتجاجی ریلی نکالی گئی۔
محنت کشوں سے اظہار یکجہتی کے لیے سیاسی کارکنوں اور سماجی تنظیموں نے کاروباری حضرات سے ہڑتال کی اپیل کی تھی۔
آرمی ویلفیئر ٹرسٹ شوگر ملز یونین کے صدر محمد اقبال نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے یونین کو بحال کرنے کا حکم دیا جس کے بعد انتخابات کرائے گئے اور مل میں موجود یونین کے دفتر پر پرچم لگانےگئے تو گارڈز نے فائرنگ کردی ۔
یونین کے صدر محمد اقبال نے کہا کہ ان سمیت پندرہ محنت کش زخمی ہوگئے۔ ’خود میرا ہاتھ توڑ دیا گیا ہے۔ میرے سر پر زخم ہیں ۔مل والے کہتے ہیں کہ یہ فیکٹری ڈیفینس والوں کی ہے اس لیے یونین بنانے کی اجازت نہیں ہے‘۔
محمد اقبال نے کہا کہ فیکٹری کی انتظامیہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی ماننے کے لیے تیار نہیں۔
پولیس نے اب تک محنت کشوں کی طرف سے رپورٹ درج نہیں کی ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے منگل کے روز دونوں فریقوں کے ساتھ مذاکرات کا انتظام کیا ہے۔
فیکٹری انتظامیہ سے ان کا موقف جاننے کےلیے کئی بار رابطہ قائم کیا گیا لیکن ہر بار کہا گیا کہ جنرل منیجر کرنل ارشد فیکٹری سے باہر گئے ہوئے ہیں۔
ضلع بدین میں چھ شوگر ملیں موجود ہیں جن میں تین کا تعلق صدر پاکستان آصف علی زرداری سے بتایا جاتا ہے جبکہ دو ایک بڑے صنعتکار گروپ کی ہیں اور آخری آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کی ہے۔
تمام فیکٹریوں میں محنت کشوں کو قانون کے مطابق دی گئی مراعات اور سہولتوں کا فقدان ہے۔ محمد اقبال کہتے ہیں کہ تمام فیکٹریوں میں پاکٹ یونین ہیں۔ کسی فیکٹری میں بھی قانون پر عمل نہیں ہوتا ہے ۔
__________________________________________________ ______________________ سوات میں کرفیو، آپریشن میں تیزی رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی، پشاور کئی علاقوں سے مسلسل فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں صوبہ سرحد کے ضلع سوات اور قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں تین افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ضلع بھر میں غیر معینہ مدت تک کرفیو نافذ کر کے صدر مقام مینگورہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کاروائیاں تیز کر دی ہیں۔ ایک اعلٰی سرکاری اہلکار کے مطابق پیر کی صبح گن شپ ہیلی کاپٹروں نے مینگورہ کے علاقوں انگرو ڈھرئی، قمبر اور نوی کلی میں مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تاہم ان واقعات میں کسی جانی نقصانات کی اطلاعات نہیں ملی۔ گزشتہ رات تحصیل مٹہ کے علاقے چپرہار میں ایک مارٹرگولہ گھر پرگرنے سے ایک شخص ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات سے علاقے میں کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے لوگ گھروں کے اندر محصور ہیں جبکہ کئی علاقوں سے مسلسل فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ ادھر قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں میں بھی سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تین سے جاری جھڑپوں میں شدت آئی ہے جس میں دو عام شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پیر کی صبح سکیورٹی فورسز نے صدر مقام خار اور عنایت کلی میں کرفیو نافذ کر کے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کی۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ گزشتہ رات سے عنایت کلی پر جاری گولہ باری میں دو عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جھڑپوں میں شدت آنے کی وجہ سے عنایت کلی سے سینکڑوں لوگوں نے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کردی ہے۔ آخری اطلاعات آنے تک علاقے میں فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا۔ ادھر تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے دعوٰی کیا ہے کہ عسکریت پسندوں نے اتوار کی رات صدر مقام خار میں واقع سکاؤٹس قلعے اور سول کالونی پر راکٹ حملے کیے ہیں جس میں پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ تاہم مقامی طورپر اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ واضح رہے کہ تین دن پہلے سکیورٹی فورسز نے باجوڑ ایجنسی کے ایک بڑے تجارتی مرکز عنایت کلی میں طالبان کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آپریشن سے پہلے علاقے میں طالبان کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا تھا۔
__________________________________________________ _________________ ’کوچ نے شعیب کو ہٹانے کو کہا تھا‘ عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی رپورٹ میں شعیب ملک کو اپنی دنیا میں مگن رہنے والا کپتان قرار دیا گیا پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ انتخاب عالم اور منیجر یاور سعید نے اپنی رپورٹ میں شعیب ملک کو بحیثیت کپتان مسترد کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کو تجویز پیش کی تھی کہ یونس خان کو کپتان مقرر کر دیا جائے۔ کوچ اور منیجر کی یہ رپورٹ پیر کو سینیٹ کی سپورٹس سے متعلق سٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی۔ کوچ انتخاب عالم اور منیجر یاور سعید نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ شعیب ملک اکیلے لاتعلق اور اپنی دنیا میں رہنے والے تھے جس میں کوئی برائی نہیں لیکن ٹیم کو ایک پر عزم کپتان کی ضرورت تھی۔ کوچ اور منیجر نے یہ بھی لکھا ہے کہ انہوں نے سوائے پانچ منٹ کی ٹیم میٹنگ کے شعیب ملک کا کھلاڑیوں سے کوئی بامقصد رابطہ نہیں دیکھا۔ یہاں تک کہ انہوں نے شعیب کو کھلاڑیوں کے ساتھ طویل وقت گزارتے ہوئے بھی نہیں دیکھا جو ایک کامیاب کپتان کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ دونوں آفیشلز نے نئے کپتان کے طور پر یونس خان کا نام تجویز کیا انتخاب عالم اور یاور سعید نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ سری لنکا کے خلاف پچھہتر رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد ٹیم کو نئے کپتان کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی تھی کیونکہ ان کے خیال میں کھلاڑی شعیب ملک سے مطمئن اور خوش نہیں دکھائی دیتے تھے۔ دونوں آفیشلز نے نئے کپتان کے طور پر یونس خان کا نام تجویز کیا اور پی سی بی کو یہ مشورہ بھی دیا کہ یہ تبدیلی سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے پہلے ہی عمل میں لائی جائے۔ کوچ اور منیجر نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ لیگ سپنر دانش کنیریا کو ون ڈے اور ٹیسٹ دونوں میں سپیشلسٹ سپنر کے طور پر کھلایا جانا چاہیے۔کوچ اور منیجر نے وکٹ کیپر کامران اکمل کی کارکردگی کو غیرتسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وکٹ کیپر اور بیٹسمین کی حیثیت سے کامران اکمل نے اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائی ہے لیکن اب ان کی کارکردگی کا وہ معیار نہیں رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شعیب ملک بھی پیر کو سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ انہوں نے خود کپتانی چھوڑی کیونکہ وہ عام کھلاڑی کی حیثیت سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔کمیٹی کے رکن سینیٹر طاہر مشہدی کا کہنا ہےکہ شعیب ملک کے خیالات کے برعکس یہ بات واضح ہے کہ کوچ اور منیجر ان کےخلاف تھے۔
_________________________________________
مصر: ہزاروں برس قدیم ممیاں دریافت
کھدائی کے دوران مقبرے سے لکڑی اور پتھر کے آٹھ تابوت بھی ملے ہیں مصری ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے کھدائی کے دوران ایک مقبرے سے کم از کم دو ہزار چھ سو برس قدیم بیس سے زائد ممیاں برآمد کی ہیں۔
مصر کے سب سے بڑے ماہرِ آثارِ زاہی ہواس کے مطابق یہ ممیاں جن میں سے بائیس کو مقبرے کی دیوار کے ساتھ کھڑا پایا گیا ایک ایسے مقبرے میں تھیں جو کہ چھ سو چالیس قبل مسیح میں بنایا گیا تھا۔
زاہی ہواس کا کہنا ہے کہ صقارہ کے مقام پر ہونے والی اس کھدائی کے دوران لکڑی اور پتھر کے آٹھ تابوت بھی ملے ہیں۔
مصری حکومت کے ایک بیان کے مطابق قدیم مقبرہ چوروں کو ممکنہ طور پر اس مقبرے تک رسائی رہی ہے تاہم اس کے باوجود دریافت کیے جانے والے مقبرے میں لکڑی کا ایک تابوت ایسا ہے جسے زمانۂ قدیم سے نہیں کھولا گیا۔خیال کیا جا رہا ہے کہ چونے کے پتھر سے بنا ہوا یہ سربمہر تابوت قریباً چار ہزار برس قدیم ہے۔
اب تک کھولے جانے والے ایک تابوت میں سے ماہرین کو ایک ممی ملی ہے اور انہیں مزید ممیوں کی دریافت کی امید ہے۔
قاہرہ کے جنوب میں صقارہ کے علاقے میں آثارِ قدیمہ کی تلاش میں کھدائی کا کام کئی عشروں سے جاری ہے لیکن اس کے باوجود یہاں سے نئے آثار قدیمہ دریافت ہوتے رہے ہیں۔
تاہم اس کے باوجود نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے صحیح حالت میں موجود مقبرے کا ملنا عام بات نہیں۔ مصری ماہر زاہی ہواس کا کہنا ہے کہ مصر کے ستّر فیصد آثارِ قدیمہ ابھی دریافت ہونا باقی ہیں۔
پولیس کمیٹی ناصرف یہ معلوم کرے کہ یہ واقعہ کہاں اور کب رونما ہوا بلکہ یہ بھی پتہ چلائے کہ مذکورہ واقعہ رونما ہوا بھی ہے یا نہیں: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے ضلع سوات میں ایک خاتون کو کوڑے مارے جانے کے واقعہ کی جامع تحقیقات کے لئے صوبہ سرحد کے پولیس سربراہ ملک نوید کی قائم کردہ کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدالت کو روزانہ کی بنیاد پر تحقیقات میں پیش رفت سے آگاہ کرے۔
پیر کے روز ان احکامات کے بعد چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بینچ نے سماعت غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔ عدالت نے واقعہ کا ازخود نوٹس ہوئے متعلقہ حکام کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے سوات اور حکومت کے زیر انتظام دیگر علاقوں میں لا قانونیت اور سرکاری عملداری قائم کرنے میں ناکامی پر وفاقی سیکرٹری داخلہ کمال شاہ کی سرزنش کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو ان علاقوں میں اپنی رٹ قائم کرنے کے لئے اقدامات کرنے کا بھی حکم جاری کیا۔
سوات کے واقعہ پر از خود نوٹس کی سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جس خاتون کے بارے کہا جا رہا ہے کہ اسے کوڑے مارے گئے اس نے سوات کے کمشنر کے سامنے اس واقعہ کی تردید کی ہے اور خاندانی روایات کے پیش نظر سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود عدالت کے سامنے حاضر ہونے سے معذرت کی ہے۔
تم ججوں کو گرفتار کرنے میں تو بہت تیز ہو لیکن ایک لڑکی کو عدالت میں پیش نہیں کر سکتے۔ کیا تمہاری ڈیوٹی صرف یہ ہے کہ ججوں کے گھر کے باہر رینجرز لگا دو اور پولیس کے کیمپ کھڑے کر دو؟
چیف جسٹس
صوبہ سرحد کے پولیس سربراہ نوید ملک نے بتایا کہ واقعہ کی انسداد دہشت گردی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور ضلعی پولیس افسر کی سربراہی میں اعلٰی سطحی کمیٹی نے تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا ہے۔
عدالت نے ڈیڑھ گھنٹے جاری رہنے والی اس کارروائی کے دوران اٹارنی جنرل کے علاوہ وفاقی سیکرٹری داخلہ، صوبہ سرحد کے چیف سیکرٹری اور پولیس سربراہ کے علاوہ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سربراہ لطیف آفریدی کے دلائل بھی سنے۔
مقدمہ کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ معاملے کی تفتیش کے لیے قائم کی گئی پولیس کمیٹی ناصرف یہ معلوم کرے کہ یہ واقعہ کہاں اور کب رونما ہوا بلکہ یہ بھی پتہ چلائے کہ مذکورہ واقعہ رونما ہوا بھی ہے یا نہیں۔ اور اگر کوڑوں کی سزا دی گئی ہے تو کس قانون کے تحت۔
عدالت نے اپنے حکم میں اٹارنی جنرل کو ہدایت کی ہے کہ وہ انسانی عظمت کی توہین کرنے والے ملزمان کے خلاف قانون اور آئین کے تحت کارروائی یقینی بنائیں اور اگر قانون کے تحت اس معاملے پر کارروائی ہوتی ہے تو عدالت اس میں مداخلت نہیں کرے گی۔
عدالت نے سیکرٹری داخلہ اور اٹارنی جنرل کو اپنے تحریری حکم کے ذریعے ہدایت کی کہ وہ اعلٰی سطح پر حکومت کے ساتھ رابطوں کے ذریعے سوات میں لا قانونیت کے خاتمہ کے لیے حکمت عملی ترتیب دیں تاکہ اس علاقے میں قانون اور آئین کی عملداری قائم ہو سکے۔
یہ تحریری حکم جاری کرنے سے پہلے چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے اس خصوصی بنچ کے بعض ارکان نے وفاقی سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ کو سوات میں حکومتی عملداری قائم کرنے میں ناکامی پر ان کی سرزنش کی۔
چیف جسٹس نے اس موقع پر سیکرٹری داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’تم ججوں کو گرفتار کرنے میں تو بہت تیز ہو لیکن ایک لڑکی کو عدالت میں پیش نہیں کر سکتے۔ کیا تمہاری ڈیوٹی صرف یہ ہے کہ ججوں کے گھر کے باہر رینجرز لگا دو اور پولیس کے کیمپ کھڑے کر دو؟‘
چیف جسٹس نے کہا کہ سوات تو دور کی بات خود اسلام آباد میں جو دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں اسے کون روکے گا۔ ’پوری قوم پریشان ہے اور سب تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں۔ چکوال میں کیا ہوا، مناواں میں کیا ہوا؟ تمہاری وزارت کسی کو روک نہیں سکی۔ کیا کارکردگی ہے تمہاری وزارت کی؟‘ چیف جسٹس نے وفاقی حکومت کی نمائندگی کرنے والے کمال شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے اس نوعیت کے سوالات کی بوچھاڑ کر دی جن کے جواب میں سیکرٹری داخلہ نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو ازخود نوٹس لینے کا شوق نہیں ہے لیکن یہ واقعہ ہونے اور اس کی ٹیلی وژن پر تشہیر کے باوجود حکومتی کارندے ٹس سے مس نہیں ہوئے اسی لیے عدالت کو خود کارروائی کرنی پڑی۔
’تم عدالت کو بتاؤ کہ یہ واقعہ ہونے کے بعد تم نے کیا کیا؟ اگر میڈیا والوں کو اس کا پتہ چل گیا تو تمہاری ایجنسیاں کہاں تھیں؟‘ سید کمال شاہ نے چیف جسٹس کی جانب سے پوچھے گئے ان سوالوں کا بھی کوئی جواب نہیں دیا۔
جسٹس خلیل رمدے نے کہا ’تم کیسے سیکرٹری داخلہ ہو کہ سوات میں جا ہی نہیں سکتے۔ اگر آپ اتنے اہل ہیں تو جائیں سوات میں اور خود اس سارے معاملے کی تحقیق کریں۔‘
جسٹس رمدے نے کہا کہ وفاقی حکومت کی مشینری اپنا کام نہیں کر رہی اور جب کسی سنگین معاملے پر عدالت از خود نوٹس لیتی ہے تو انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔’کیا تم یہی چاہتے ہو کہ معزز چیف جسٹس از خود نوٹس لیتے رہیں اور تمہیں خود سے کوئی کام نہ کرنا پڑے؟‘
جسٹس رضا محمد رضا نے کہا کہ سوات اور قبائلی علاقوں میں صورتحال بہت تشویشناک ہے اور حکومت بالکل بے بس دکھائی دیتی ہے۔’صوبائی اتنظامیہ جس کا سوات پر انتظامی کنٹرول ہے وہ کیا کر رہی ہے۔ یہ سب کچھ بہت خطرناک ہے اور اسے روکنا ہو گا۔‘
جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ملک میں مجرموں کو سزا دینا ریاست کا کام ہے۔ ’کوئی بندوق بردار اپنے طور پر ریاستی امور اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔ اس روایت کو روکنا ہو گا تاکہ بیرونی دنیا میں پاکستان کے وقار کو بحال کیا جا سکے۔‘
اس موقع پر اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ نے عدالت کو قائل کرنے کے لیے بتایا کہ سوات میں امن معاہدہ ہو گیا ہے جس کے بعد علاقے میں امن کے قیام میں مدد مل رہی ہے۔اس موقع پر بنچ میں شامل بعض ججوں نے سوات امن معاہدے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
ہمیں امن معاہدے یا قانون عدل پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ یہ عدالت کا کام نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سوات میں قانون کی عمل داری ہے؟ کیا وہاں پاکستانی آئین کی پاسداری کی جا رہی ہے؟ ہم نے ملک کا وقار بحال کرنا ہے۔ اس ملک کے لوگوں کو ان کے حقوق دلوانے ہیں۔ آئین اور قانون کی عملداری یقینی بنانی ہے۔
چیف جسٹس
جسٹس فقیر کھوکھر نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا اس امن معاہدے کے بعد شدت پسندوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں؟ جسٹس خلیل رمدے کا کہنا تھا کہ یہ کیسا امن معاہدہ ہے کہ حکومت کا کوئی افسر علاقے میں جا ہی نہیں سکتا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں امن معاہدے یا قانون عدل پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ یہ عدالت کا کام نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سوات میں قانون کی عمل داری ہے؟ کیا وہاں پاکستانی آئین کی پاسداری کی جا رہی ہے؟ ’ہم نے ملک کا وقار بحال کرنا ہے۔ اس ملک کے لوگوں کو ان کے حقوق دلوانے ہیں۔ آئین اور قانون کی عملداری یقینی بنانی ہے۔‘
اس موقع پر عدالت میں یہ بحث شروع ہو گئی کہ اگر عدالت اس معاملے کی خود سے تحقیقات کروانا چاہتی ہے تو سوات میں کون سرکاری افسر تحقیقات کے لئے جانے پر تیار ہو گا۔
جسٹس رمدے نے سب سے پہلے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کا کمیشن بنا کر سوات چلے جائیں۔ لطیف کھوسہ اس حکم پر پہلے تو خاموش رہے جب دوسری دفعہ جسٹس رمدے نے ان سے دریافت کیا کہ کیا وہ سوات جانے کے لئے تیار ہیں تو اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر عدالت کا حکم ہو تو وہ ایسا کرنے کے لئے تیار ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ بیشتر سرکاری اور اعلٰی پولیس افسر سوات جانے سے انکار کر چکے ہیں۔
چیف جسٹس نے سیکرٹری داخلہ کمال شاہ کو ہدات کی کہ وہ سوات چلے جائیں۔ تاہم ان کی جانب سے جواباً خاموشی اختیار کرنے پر چیف جسٹس نے صوبائی پولیس سربراہ ملک نوید کو حکم دیا کہ وہ کمال شاہ کو لے کر سوات جائیں اور اس سارے معاملے کی خود تفتیش کریں۔ لیکن اس پر بھی خاموشی طاری رہی۔
طالبان کے خلاف فوج کے آپریشن کی وجہ لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن میں تیزی آ گئی ہے اور پاکستانی فوج کے ترجمان نے دعوٰی کیا ہے کہ سوات، بونیر اور لوئر دیر میں جاری فوجی آپریشن میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دو اہم کمانڈروں سمیت ایک سو ستر سے زیادہ شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ جمعہ کو راولپنڈی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے میجر جنرل اطہر عباس نے بتایا کہ آپریشن کے دوران کچھ علاقوں سے فوج کو سخت مزاحمت کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران شرپسندوں کے دو تربیتی مراکز بھی تباہ کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سوات میں ایک سو تینتالیس شدت پسند مارے گئے ہیں، جبکہ بونیر میں چھ اور لوئر دیر میں صوفی محمد کے بیٹے کفایت اللہ سمیت دس شدت پسندوں کو جمعرات اور پندرہ شرپسندوں کو جمعہ کو مارا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سوات میں چار ہزار شدت پسند موجود ہیں جبکہ ان کے خلاف آپریشن میں بارہ سے پندرہ ہزار فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ فوجی ترجمان نے دعوٰی کیا کہ طالبان نے زیادہ تر نوجوانوں کو خوفزدہ کر کے بھرتی کیا ہے اور امکان ہے کہ فوج کے آنے سے وہ طالبان شدت پسندوں کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔
ایک اندازے کے مطابق تاحال ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں نے مختلف علاقوں سے نقل مکانی کی ہے جبکہ حکومت صوابی اور مردان کے علاقے میں مزید چار کیمپ قائم کر رہی ہے
وزارتِ داخلہ
انہوں نے کہا کہ آپریشن مکمل ہونے کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جاسکتا کیونکہ یہ ایک مشکل آپریشن ہے اور ان کی کوشش ہے کہ شہریوں کا نقصان کم سے کم ہو اور اس میں کچھ زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سکیورٹی فورسز نے خوازہ خیلہ اور چمتلئی کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے لیکن مینگورہ اور دیگر علاقوں پر اب بھی طالبان قابض ہیں۔ فوجی ترجمان نے کہا کہ شرپسندوں کے خاتمے، اور سوات میں حکومت کی مکمل عملداری بحال کرنے تک فوج متعلقہ علاقے میں رہے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب تک چونسٹھ ہزار رجسٹرڈ افراد سوات اور ملحقہ علاقوں سے نقل مکانی کر کے محفوظ علاقے میں پہنچے ہیں۔ بریفنگ میں موجود وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ حکومت صوابی اور مردان کے علاقے میں مزید چار کیمپ قائم کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے ایک اندازے کے مطابق تاحال ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں نے مختلف علاقوں سے نقل مکانی کی ہے۔ سوات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمعہ کو تحصیل کبل کے مختلف علاقوں میں واقع طالبان کے کئی ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں اور اور کوبرا ہیلی کاپٹروں سے بمباری کی گئی ہے جس کے نتیجہ میں ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔ بی بی سی اردو کے دلاور خان وزیر کے مطابق پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں مواصلاتی نظام درھم برھم ہوگیا ہے جس کی وجہ سے معلومات حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ادھر مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات سکیورٹی فورسز نے مٹہ اور چار باغ کے علاقوں پر شدید گولہ باری کی ہے جس دوران کئی گولے طالبان کے ٹھکانوں کے علاوہ عام لوگوں کے گھروں پر بھی گرے ہیں۔ سوات سے نقل مکانی کرنے والے ایک خاندان کی لڑکی اپنے خاندان کے لیے روٹیاں لے کر جا رہی ہے
سوات کے صدر مقام مینگورہ میں بدستور کرفیو نافذ ہے اور سکیورٹی فورسز نے مینگورہ کے داخلی و خارجی راستوں کو بھی بند کر دیا ہے جس کی وجہ سے لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ کرفیو کی وجہ سے نقل مکانی کا سلسلہ بھی عارضی طور رک گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مینگورہ میں کئی دن سے بجلی کی ترسیل منقطع ہے اور اب گھروں میں اشیائے خوردونوش کے خاتمے کے بعد پانی کی بھی شدید قلت ہے۔ کرفیو کے دوران مینگورہ میں جگہ جگہ سے طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاع ہے جس میں دونوں جانب سے بھاری اسلحہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ طالبان نے منگل کو مینگورہ میں واقع کمشنر، ناظم، ڈی آئی جی، پولیس اور فرنٹیئر ریزرو پولیس کے دفاتر پر قبضہ کر لیا تھا جو برقرار ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق مینگورہ شہر کے بڑا حصہ طالبان کے کنٹرول میں ہے اور انہوں نے شہر کی بڑی بڑی عمارتوں پر مورچے سنبھالے ہوئے ہیں۔ ادھر تحریکِ طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے پاکستانی فوج کے ان دعوؤں کو مسترد کردیا ہے کہ سوات کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی دوران ایک سو سّتر شدت پسند مارے گئے ہیں۔انہوں ٹیلی فون پر بی بی سی کو بتایا کہ حکومت پاکستان امریکہ کو خوش کرنے کے لیے جھوٹے دعوے کر رہی ہے۔ مولوی عمر کا کہنا تھا کہ ’فوج اس وقت صرف بمباری سے کام لے رہی ہے زمین پر فوج کا کسی قسم کا کنٹرول نہیں ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں سے جاری فوجی کارروائی میں ان کا ایک ساتھی بھی ہلاک نہیں ہوا ہے البتہ عام شہریوں کے ہلاکت
کی اطلاع ہے۔
اوباما کا مسلمانوں سے خطاب
مسلمانوں سے خطاب صدر اوباما کا دیرینہ وعدہ تھا
امریکی ایوانِ صدر نے کہا ہے کہ صدر براک اوبامہ امریکہ اور عالم اسلام کے تعلقات کے بارے میں اپنے دورۂ مصر کے دوران مسلمانوں سے خطاب کریں گے۔ وہ چار جون کو قاہرہ جائیں گے۔ صدر اوباما نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی صدارت کے ابتدائی دنوں ہی میں مسلمانوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں تقریر کریں گے۔ ایوانِ صدر کے ایک ترجمان نے اس مقصد کے لیے مصر کے انتخاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مصر عرب دنیا کے دل کی حیثیت رکھتا ہے۔
گزشتہ ماہ ترکی کے دورے پر براک اوباما نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ کی جنگ مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ وہ عالم اسلام کے ساتھ شراکت باہمی کی بنیاد پر رہنا چاہتا ہے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیل کے مطابق صدر اوباما نے ابتدا ہی میں واضح کر دیا تھا کہ وہ مسلم اور عرب دنیا سے رابطے استوار کرنا چاہتے ہیں۔ جب صحافیوں نے ایوان صدر کے ترجمان رابرٹ گِبس کی توجہ مصر میں حقوق انسانی کی پامالی کی جانب مبذول کروائی تو انہوں نے کہا ’صدر کے خطاب کی اہمیت اور ان کی خواہش اس بات سے زیادہ بڑی ہے کہ وہ کہاں خطاب کرتے ہیں اور اُس ملک کی قیادت کس کے پاس ہے۔‘ ان کے بقول یہ صدر کی جانب سے مسلمانوں سے مکالمے کی متواتر کوششوں کا حصہ ہے۔ صدر اوباما دورۂ مصر کے اگلے روز جرمنی جائیں گے۔
یورپی مسلمان، کہیں زیادہ محبِ طن
’مسلمان وسیع تر برادریوں کا حصہ بننا اور معاشروں میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں‘
یورپی مسلمان جن ملکوں میں رہتے ہیں ان سے ان کی حب الوطنی عام تصور کے برخلاف کہیں زیادہ ہے۔ گیلپ اور کوایگزسٹ فاؤنڈیشن کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق 77 فیصد برطانوی مسلمان اپنی برطانوی شناخت پر اصرار کرتے ہیں جب کہ عام برطانوی شہریوں میں یہ تناسب 50 فیصد ہے۔ سروے کے مطابق جرمنی میں بھی صورتِ حال ایسی ہی ہے۔ اس سروے رپورٹ کو تیار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس سروے کے دوران اس مشترکہ خیال کا بھی سامنا کرنا پڑا کہ اسلامی شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات نے یورپی مسلمانوں کو الگ تھلگ کرنے میں خاصا کردار ادا کیا ہے۔ اس سروے رپورٹ کو تیار کرنے والوں میں شامل اور گیلپ سینٹر برائے مسلم سٹڈیز کے ڈالیا مغاہد کا کہنا ہے کہ 'تحقیقات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ مسلمانوں اور ان کی معاشرتی ہم آہنگی کے بارے میں پائے جانے والے بیشتر تصورات درست نہیں ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ 'مسلمان وسیع تر برادریوں کا حصہ بننا اور معاشروں میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں‘۔ بی بی سی کے روب برومبے کا کہنا ہے کہ اس سروے سے سامنے والے آنے والے حقائق خاصے حیران کن ہیں کیوں کہ گیارہ ستمبر کو ہونے والے حملوں کے بعد سے امریکی مبصر یورپی مسلمانوں کی ان ممالک سے وفاداری پر مسلسل سوال اٹھاتے رہے ہیں جن میں وہ رہتے ہیں۔ اس سروے میں زیادہ توجہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے مسلمانوں پر دی گئی ہے اور ہر ملک میں پانچ سو مسلمانوں اور ایک ہزار عام لوگوں کے خیالات اکٹھے کیے گئے ہیں۔ برطانیہ میں تین چوتھائی مسلمان خود کو برطانیہ اور اس کے اداروں کا حصہ تصور کرتے ہیں
برطانیہ میں تین چوتھائی مسلمان خود کو برطانیہ اور اس کے اداروں کا حصہ تصور کرتے ہیں اور یہ تعداد دوسرے عام شہریوں کے برخلاف کہیں زیادہ ہے۔ برطانوی مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت، بیاسی فیصد کا خیال ہے کہ مسلمان محب وطن شہری ہیں جب کہ ان کے بارے میں دوسرے عام شہریوں کی بڑی تعداد میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ جرمنی میں بھی مسلمانوں کو بھی دوسرے عام شہریوں کے برخلاف جرمنی کے نظام انصاف، مالیاتی اداروں اور انتخابی ایمانداری پر کہیں زیادہ اعتماد ہے۔ جرمن شہری ہونے پر اصرار کرنے والے مسلمان کل کا چالیس فیصد ہیں جب کہ دوسرے جرمن شہریوں میں یہ تناسب بتیس فیصد ہے۔ فرانس میں ملکی تعلق پر اصرار کرنے والے مسلمانوں کی تعداد باون فیصد ہے جب کہ دوسرے عام لوگوں میں یہی جذبات رکھنے والے پچپن فیصد ہیں۔ فرانس کے حوالے سے سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ فرانسیسی مسلمان کو فرانس کے قومی اداروں اور پولیس پر اعتماد انتہائی کم ہے۔ اس کے علاوہ سروے یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اور کینیڈا میں رہنے والے مسلمانوں کے مقابلے میں یورپ میں رہنے والے مسلمان خود کو کہیں زیادہ الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں۔
اسلام آباد:اقوام متحدہ کے دفتر میں دھماکہ، پانچ ہلاک
شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
دھماکے کے بعد ڈبل یو ایف پی کے دفتر کے باہر کا منظر
اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر کی عمارت کے اندر خودکش حملے میں پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔
یہ دھماکہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف ایٹ تھری میں واقع اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کے دفتر کے اندر تقریباً بارہ بجے کے قریب پیش آیا۔
اسلام آباد کے ہسپتال پِمز کے ترجمان ڈاکٹر وسیم نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد پانچ ہے جبکہ تین افراد زخمی ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں چار پاکستانی اہلکار اور ایک غیر ملکی اہلکار شامل ہیں۔
اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی تھی کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ خودکش حملہ آور فرنٹیئر کانسٹیبلری یعنی ایف سی کی وردی میں ملبوس تھا اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کے دفتر میں داخل ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ خودکش حملہ آور ایف سی یونیفارم میں تھا اس لیے ڈبلیو ایف پی کے سکیورٹی گارڈ نے اس اندر جانے کی اجازت دے دی۔
ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد طاہر عالم نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھماکہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کی عمارت کی لابی میں ہوا۔
دھماکے کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
واضح رہے کہ جائے وقوعہ سے کچھ ہی فاصلے پر صدر پاکستان آصف علی زرداری کا مکان زرداری ہاؤس بھی واقع ہے۔ اور جائے وقوعہ سے کچھ فاصلے پر ایف ایٹ کچہری اور پولیس افسران کے دفاتر بھی واقع ہیں۔
_________________________________________________
بارہمولہ، ہڑتال اور مظاہرے جاری
ریاض مسرور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر
پولیس اور مظاہرین کے مابین سوموار کو ہوئے تازہ تصادم میں مزید چار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس کارروائی میں بارہ سالہ لڑکے کی موت کےخلاف بارہ مولہ میں سوموار کو بھی پرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔
پولیس اور نیم فوجی عملہ نےمشتعل نوجوانوں پر لاٹھی چارج کیا اور ہجوم کو منتشر کرنے کےلیے اشک آور گیس کا استعمال کیا۔
ضلع میں پچھلے چار روز سے ہڑتال ہے اور لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ پولیس اور مظاہرین کے مابین سوموار کو ہونے والے تازہ تصادم میں مزید چار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پچھلے چار روز کے دوران اٹھائیس پولیس اہلکاروں سمیت تینتیس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
اسّی سالہ علیٰحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نےگزشتہ روز بارہمولہ میں کمسن عرفان احمد لون کی ہلاکت کے خلاف سوموار کو وادی بھر میں احتجاج کی اپیل کی تھی۔ اس کال پر سرینگر کے حیدر پورہ اور پرانے شہر کی بعض بستیوں میں نوجوانوں کی ٹولیوں نے جلوس نکالنے کی کوشش کی جسے پولیس نے ناکام بنا دیا۔
علیٰحدگی پسند رہنما محمد یٰسین ملک اور دیگر حریت کارکنوں نے بارہمولہ جانے کی کوشش کی لیکن انہیں پٹن کے قریب پولیس نے احتیاطی حراست میں لے لیا۔
واضح رہے کہ بارہ سالہ عرفان جمعہ کے روز سر میں اشک آور گیس کا گولہ لگنے سے زخمی ہوگیا تھا اور ہسپتال پہنچانے پر اس نے دم توڑ دیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس اور نیم فوجی عملہ نے اشک آور گیس کے گولے ہجوم کو منتشر کرنے نہیں بلکہ بچوں کو قتل کرنے کی غرض سے پھینکا تھا۔ تاہم حکومت نے اس سلسلے میں مجسٹریٹ سطح کی تفتیش شروع کردی ہے۔
بارہمولہ کے ڈپٹی کمشنر لطیف الزمان دیوا نے بتایا کہ تفتیشی ٹیم اکیس دن میں حکومت کو رپورٹ پیش کریگی۔ اس دوران حزب اختلاف پی ڈی پی نے ایک بیان میں حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ معصوم کشمیریوں کو قتل کرنے کے بعد تحقیات کا جو اعلان کا مقصد عوامی ردعمل پر قابو پانا ہوتا ہے۔
دریں اثنا نئی دلّی سے حکومت ہند کی اٹھارہ رُکنی خصوصی ٹیم سوموار کو سرینگر پہنچی اور یہاں وزیراعلیٰ عمرعبداللہ سمیت دوسرے اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی۔
وزیراعلیٰ کے سیکرٹری اصغرعلی کےمطابق اس ٹیم کی سربراہی وزیراعظم منموہن سنگھ کے کابینہ سیکرٹری کے ایم چندرشیکھر کر رہے ہیں۔ دورے پر آئی یہ خصوصی ٹیم صوبائی حکومت کے ساتھ سولہ سو کروڑ روپے کے اُس خصوصی پیکج کی تفصیلات طے کرے گی جو وادی سے چلے گئے کشمیری پنڈتوں کی واپسی کےلیے وزیراعظم نے منظور کیا ہے۔ اس پیکج کے تحت فی کنبہ عارضی رہائش کی سہولت، روزگار کے لئے نصف سبسڈی پر پانچ لاکھ روپے کا قرضہ، ساڑھے سات لاکھ روپے کی نقد امداد شامل ہے۔
__________________________________________________ _
انڈیا:سیلاب سے200 سے زائد ہلاک
سیلاب کے سبب ہزاروں لوگوں بے گھر ہوگئے ہیں۔
جنوبی ہندوستان میں شدید بارش کے سبب آنے والے سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہےاور اب یہ تعداد سے دو سو سے زیادہ ہوگئی ہے۔ وہیں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں بھی تیز بارش سے 25 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
ریاست کرناٹک اور آندھرا پردیش کے کئی گاؤں سیلاب کی زد میں آ گئے ہیں اور لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔
سب سے زیادہ متاثرہ ریاست کرناٹک میں بارش قدرے کم ہوئی لیکن وہاں بڑی تعداد میں کھیت پوری بری طرح متاثر ہوئے اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ امدادی کام اور بازآبادکاری کے لیے اربوں ڈالرز کی ضرورت پڑے گی۔
کرناٹک کے وزیر اعلی بی ایس یدورپا نے کہا کہ ان کی ریاست میں سیلاب سے 170 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کے چودہ اضلاع میں ایک کروڑ سے زیادہ لوگ بےگھر ہوگئے ہیں اور کم از کم بیس لاکھ گھر تباہ ہوگئے ہیں۔ساڑھے تین سو سے زیادہ گاؤں اب بھی پانی سے گھرے ہوئے ہیں۔
تقریباً ایک ہفتے سے جاری بارش سے کسانوں کے ہزاروں جانور مرچکے ہیں۔وزیر اعلی یدورپا نے ان حالات کو ’ انتہائی سنجیدہ حالات‘ قرار دیا ہے۔
بنگلور میں صحافی حبیب بیری کا کہنا ہے کہ ہزاروں لوگ بغیر چھت کے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
اطلاعات کے مطابق وزیر داخلہ پی چدامبرم حالات کا جائزہ لینے کے لیے کرناٹک اور آندھرا پردیش کا دورہ کریں گے۔
محکمہ صحت کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بیماری پھیلنے کا ڈر ہے اور اسے روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں گزشتہ پانچ دنوں سے جاری بارشوں کی وجہ سے اب تک پچیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہزارہا گھر تباہ ہو گئے ہیں۔
جنوبی مہاراشٹر اور اس کے ساحلی علاقوں رتناگیری، رائے گڑھ، سندھو درگ، کولہا پور، شولاپور اور سانگلی میں جمعرات کے روز سے شروع ہونے والی طوفانی بارش نے نظام زندگی درہم برہم کر دیا۔
رتنا گیری میں چٹان کھسکنے سے تیرہ افراد کی موت واقع ہوگئی تھی جس میں آٹھ افراد ایک ہی خاندان کے تھے۔ شولاپور میں بارش نے دس افراد کی جان لے لی۔ سانگلی، سندھودرگ اور شری وردھن میں ایک ایک فرد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گوا میں قہر برپا کرنے کے بعد اب بارش کا رخ مہاراشٹر کی طرف ہو گیا ہے۔ ساحلی علاقوں میں کم دباؤ کی وجہ سے بارش ابھی مزید دو تین دن تک جاری رہے گی۔
مقامی باشندہ کرشنا بھاؤ نے بی بی سی کو بتایا کہ ساونت واڑی میں واقع موتی ندی تین دہائیوں کے بعد چھلکی ہے۔ علاقے میں بجلی گرنے سے ایک فرد کی موت واقع ہو چکی ہے اور حالات خراب ہیں۔ کئی افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ انہیں محفوظ مقامات پر پہچانے کا کام جاری ہے۔ علاقے میں دو سے تین فٹ پانی بھرا ہے۔
کرشنا کے مطابق علاقے میں بجلی بھی نہیں ہے۔ کسی لیڈر نے یہاں کا دورہ بھی نہیں کیا ہے البتہ حکومت کی جانب سے کچھ افراد آئے تھے جنہوں نے مرنے والوں کے ورثاء کو ایک لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔
رتناگیری میں گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے اندر چار سو بیالیس ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اتنی بارش تین دہائیوں کے بعد ہوئی ہے۔
ممبئی کو کیرالا ،گوا اور مغربی ساحلوں سے جوڑنے والی کوکن ریلوے بری طرح متاثر ہے۔
مہاراشٹر میں بارش کے سبب 25 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
مہاراشٹر کے چیف سیکرٹری جانی جوزف نے متاثرہ کولہا پور، شولاپور علاقوں کا دورہ کیا لیکن خراب موسم کی وجہ سے وہ رتناگیری اور سندھ دورگ علاقوں تک نہیں پہنچ سکے۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق اب تک بڑی تعداد میں جانی و مالی نقصان ہو چکا ہے اور فصلوں کو پہنچنے والے نقصان کا ابھی تک تخمینہ نہیں لگایا جا سکتا ہے۔
مہاراشٹر کے ان اضلاع کے ساتھ ہی پونے اور مبمئی میں بھی طوفانی ہواؤں اور گھن گرج کے ساتھ موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ ممبئی میں حالانکہ سیلابی صورتحال پیدا نہیں ہوئی ہے لیکن بیشتر نشیبی علاقوں میں پانی بھر چکا ہے۔ جگہ جگہ ٹریفک جام ہوگیا ہے۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے مطابق جھیلوں کے اطراف ابھی بھی اتنی بارش نہیں ہوئی ہے جتنی ضرورت ہے۔ کئی جھیلیں ابھی چھلکی نہیں ہیں اس لیے پانی کی کٹوتی جاری رہنے کے امکانات ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق مزید دو سے تین دنوں تک بارش کا سلسلہ جاری رہے گا۔
___________________________________________
کراچی ایئر پورٹ: یونانی باشندہ گرفتار
نثار کھوکھر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
یونانی باشندے سے برآمد ہونے والا پستول
کراچی ائرپورٹ سے سیکورٹی حکام نے ایک یونانی شخص کو گرفتار کرلیا ہے،جو اپنے لیپ ٹاپ میں پستول چھپاکر جہاز میں سوار ہو رہے تھے۔یونانی نوجوان کی والدہ کو رہا کردیا گیا ہے اور ملزم کے خلاف ائرپورٹ تھانے پر مقدمہ درج کرکے انہیں لاک اپ کردیا گیاہے۔
یونانی نوجوان موریریکس کو جہاز میں سوار ہونے سے پہلے گرفتار کیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تیئس سالہ موریریکس اپنی والدہ کے ہمراہ ایمرٹس کمپنی کی پرواز ای کی چھ سو پانچ کے ذریعے دبئی جا رہے تھے جہاں سے انہوں نے ایتھینز کا سفر کرنا تھا۔کراچی پولیس کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ نائن ایم ایم کا پستول یونانی نوجوان کے لیپ ٹاپ کی بیٹری والی جگہ میں چھپا ہوا تھا۔
ائرپورٹ تھانے کے ایک افسر راجہ انور کےمطابق جدید سکیننگ مشین کے مرحلے میں سے گزرتے وقت ائرپورٹ سیکورٹی فورس نے پستول کا سراغ لگایا اور دونوں مسافروں کو حراست میں لیا۔ابتدائی تفتیش کے بعد ملزم کی والدہ کو رہا کردیا گیا جبکہ ملزم کو پولیس حوالے کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملیر کی مقامی عدالت میں پیر کے روز ملزم کو پیش کیا جائیگا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے انہیں معلوم ہوا ہے کہ ملزم کی والدہ قالین کا کاروبار کرتی ہیں اور وہ کراچی سے قالین یونان لے جا رہی تھیں۔
پاکستانی قانون کے مطابق غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں ملزم کو تین سال کی سزا ہوسکتی ہے۔ائرپورٹ سیکورٹی فورس کا کہنا ہے کہ اسلحہ کیس میں وہ ممکنہ ہائجیکنگ کے پہلو پر بھی غورکر رہے ہیں
Bookmarks